# Merits of Ramazan

**Urdu title:** ماہِ رمضان کے فضائل

**Section:** A’maal -- Fatima Zahra Imamia Centre devotional library
**Page:** https://fzic.org/library/amaal/merits-of-ramazan-1701

## Text

- Instruction: Shaikh Saduq has narrated that the Holy Prophet (s) used to release all prisoners and give all beggars when the month of Ramazan comes. The month of Ramazan is the month of Allah. It is the most honorable of all months. In this month, the doors of heavens, gardens of Paradise, and mercy are opened while the doors of Hellfire are closed. In this month too, there is a night at which the acts of worship are more favorable than the worship of one thousand months. In view of that, you are advised to take notice of this and consider how to spend the nights and days of this month and how to keep your organs and senses against committing any act of disobedience to Almighty Allah. Beware of being one of those who spend the nights of Ramazan with sleeping and its days with negligence of mentioning your Lord. In this respect, a Hadith reads, “Verily, Almighty Allah releases one million persons from Hellfire at the last of each day in Ramazan and, more specifically, at the hour of breaking the fasting. At the last night and on the last day of Ramazan, He releases from Hellfire as same as the number of all those whom He has released all over the month of Ramazan.”
- Instruction (Urdu): شیخ صدوقؒ نے معتبر سند کے ساتھ امام علی رضاؑ سے اور حضرتؑ نے اپنے آباءِ طاہرینؑ کے واسطے سے امیرالمومنینؑ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک روز(جمعہ) رسول اللہؐ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو! تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ آرہا ہے، جس میں گناہ معاف ہوتے ہیں،یہ مہینہ خدا کے ہاں سارے مہینوں سے افضل و بہتر ہے، جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے بہتر، جس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر اور جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں حق تعالیٰ نے تمہیں اپنی مہمان نوازی میں بلایا ہے اور اس مہینے میں خدا نے تمہیں بزرگی والے لوگوں میں قرار دیا ہے کہ اس میں سانس لینا تمہاری تسبیح اور تمہارا سونا عبادت کا درجہ پاتا ہے۔ اس میں تمہارے اعمال قبول کیے جاتے اور دعائیں منظور کی جاتی ہیں۔ اب تم اچھی نیت اور بری باتوں سے دلوں کے پاک کرنے کے ساتھ اس ماہ میں خدا ئے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ تم کو اس ماہ کے روزے رکھنے اور اس میں تلاوتِ قرآن کرنے کی توفیق عطا کرے،کیوں کہ جو شخص اس بڑائی والے مہینے میں خدا کی طرف سے بخشش سے محروم رہ گیا وہ بدبخت اور بدانجام ہوگا اس مہینے کی بھوک پیاس میں قیامت والی بھوک پیاس کا تصور کرو، اپنے فقیروں اور مسکینوں کو صدقہ دو، بوڑھوں کی تعظیم کرو، چھوٹوں پر رحم کرواور رشتہ داروں کے ساتھ نرمی و مہربانی کرو اپنی زبانوں کو ان باتوں سے بچاؤ کہ جو نہ کہنی چاہئیں۔

- Instruction: Beware lest the holy month of Ramazan comes upon you and ends while you have still had some sins owing to which you will be punished. Beware lest you are included with the sinners who are deprived of imploring for the forgiveness of their sins and praying Almighty Allah for granting their desires.
- Instruction (Urdu): جن چیزوں کا دیکھنا حلال نہیں ان سے اپنی نگاہوں کو بچائے رکھو، جن چیزوں کا سننا تمہارے لئے جائز نہیں ان سے اپنے کانوں کو بند رکھو، دوسرے لوگوں کے یتیم بچوں پر رحم کرو تا کہ تمہارے بعد لوگ تمہارے یتیم بچوں پر رحم کریں،اپنے گناہوں سے توبہ کرو، خدا کی طرف رخ کرو، نمازوں کے بعد اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھاؤ کہ یہ بہترین اوقات ہیں جن میں حق تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے۔ اور جو بندے اس وقت اس سے مناجات کرتے ہیں وہ ان کو جواب دیتا ہے اور جو بندے اسے پکارتے ہیں ان کی پکار پر لبیک کہتا ہے اے لوگو! اس میں شک نہیں کہ تمہاری جانیں گروی پڑی ہیں۔ تم خدا سے مغفرت طلب کرکے ان کو چھڑانے کی کوشش کرو۔ تمہاری کمریں گناہوں کے بوجھ سے دبی ہوئی ہیں تم زیادہ سجدے کرکے ان کا بوجھ ہلکا کرو، کیوں کہ خدا نے اپنی عزّت و عظمت کی قسم کھارکھی ہے کہ ا س مہینے میں نمازیں پڑھنے اور سجدے کرنے والوں کو عذاب نہ دے اور قیامت میں ان کو جہنم کی آگ کا خوف نہ دلائے اے لوگو! جو شخص اس ماہ میں کسی مؤمن کا روزہ افطار کرائے تو اسے گناہوں کی بخشش اور ایک غلام کوآزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔

- Instruction: Imam Ja’far Sadiq (a) is reported to have said, “Verily, one who is not forgiven in Ramazan will not be forgiven up to the next Ramazan unless (he goes for Hajj) he witnesses the ritual of the halting at Mount Arafat.”
- Instruction (Urdu): آنحضرتؐ کے اصحاب میں سے بعض نے عرض کی :یا رسولؐ اللہ! ہم سب تو اس عمل کی توفیق نہیں رکھتے ؟!تو آپؐ نے فرمایا: تم افطار میں آدھی کھجور یا ایک گھونٹ شربت دے کر بھی خود کو آتشِ جہنم سے بچا سکتے ہو۔ کیوں کہ حق تعالیٰ اس کو بھی پورا اجر دے گا جو اس سے کچھ زیادہ دینے کی توفیق نہ رکھتا ہو۔ اے لوگو! جو شخص اس مہینے میں اپنے اخلاق درست کرے تو حق تعالیٰ قیامت میں اس کو پلِ صراط سے با آسانی گزاردے گا۔ جب کہ لوگوں کے پاؤں پھسل رہے ہوں گے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام اور لونڈی سے تھوڑی خدمت لے تو قیامت میں خدا اس کا حساب سہولت کے ساتھ لے گا اور جو شخص اس مہینے میں کسی یتیم کو عزّت اور مہربانی کی نظر سے دیکھے تو قیامت میں خدا اس کو احترام کی نگاہ سے دیکھے گا۔ جوشخص اس مہینے میں اپنے رشتہ داروں سے نیکی اور اچھائی کا برتاؤ کرے تو حق تعالیٰ قیامت میں اس کو اپنی رحمت کے ساتھ ملائے رکھے گا اور جو شخص اپنے قریبی عزیزوں سے بدسلوکی کرے تو خدا روزِ قیامت اسے اپنے سایۂ رحمت سے محروم رکھے گا۔

- Instruction: Imam Ja’far Sadiq (a) says: “When you begin your day observing fasting, you should make sure that your hearing, your sight, your hair, your skin, and all your organs are also observing fasting, that is abstaining from not only the forbidden acts but also the discommended ones.”
- Instruction (Urdu): جوشخص اس مہینے میں سنتی نمازیں بجا لائے تو خدا ئے تعالیٰ قیامت کے دن اسے دوزخ سے برأت نامہ[نجات] عطا کرے گا۔ اور جو شخص اس ماہ میں اپنی واجب نمازیں ادا کرے توحق تعالیٰ اس کے اعمال کا پلّہ بھاری کردے گا جب کہ دوسرے لوگوں کے پلّے ہلکے ہوں گے۔ جو شخص اس مہینے میں قرآن پاک کی ایک آیت پڑھے تو خداوند کریم اس کے لئے کسی اور مہینے کی بہ نسبت ختمِ قرآن کا ثواب لکھے گا۔ اے لوگو! بے شک اس ماہ میں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ انہیں تم پر بند نہ کرے۔ دوزخ کے دروازے اس مہینے میں بند ہیں لہٰذا خدائے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ انہیں تم پر نہ کھولے اور شیطانوں کو اس مہینے میں زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہےلہٰذا خدا سے سوال کرو کہ وہ انہیں تم پر مسلط نہ ہونے دے … الخ۔

- Instruction: Imam Sadiq (a) has also said, “Do not allow the day on which you observe fasting to be like your other days.” “Verily, fasting is not the abstinence from food and drink; rather, when you observe fasting, you should keep your tongues from uttering falsehood, keep your sights from seeing forbidden views, do not engage yourselves in disputes, do not envy each other, do not backbite each other, do not quarrel with each other, do not swear, whether falsely or truly, do not insult each other, do not revile at each other, do not wrong each other, do not engage yourselves in shameless disputes, do not be bored, do not be careless of mentioning Almighty Allah or of prayers, abide by silence, quietness, patience, truthfulness, and avoidance of the evildoers, avoid perjury, lie, slander, contention, evil thinking, backbiting, and talebearing, ready yourselves for the Next World and for your happy days; that is the Advent of the Rising Imam from the Household of Muhammad (s) expecting that which Almighty Allah has promised you, preparing yourselves for meeting Almighty Allah with tranquility, solemnity, piety, submission, and humiliation of the slaves who fear and hope for their masters.
- Instruction (Urdu): شیخ صدوقؒ نے روایت کی ہے کہ جب ماہِ رمضان داخل ہوتا تو رسول اللہؐ تمام غلاموں کو آزاد فرمادیتے اسیروں کو رہا کردیتے اور ہر سوالی کو عطا فرماتے تھے۔

- Instruction: Observer of fasting, purify your heart from defects, clean your inner self from filth, wash your body from dirt, disavow the enemies of Almighty Allah, act sincerely in His presence, abstain from all that which He has deemed unlawful for you to do in secret and in public, fear Almighty Allah as exactly as He deserves in secret and in public, dedicate yourself to Almighty Allah during the days of your fasting, empty your heart from all things save Him, and ready yourself to do whatever is commanded by Him and to do whatever He has ordered you to do. After you do all these, only then you are considered fasting for the sake of Almighty Allah as truly as it should be. Carry out all that which He has ordered you to do.
- Instruction (Urdu): مؤلف کہتے ہیں : رمضان مبارک خدائے تعالیٰ کا مہینہ ہے اور یہ سارے مہینوں سے افضل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں آسمان جنت اور رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے، جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ اب اے انسانو! تمہیں سوچنا چاہیے کہ تم اس مہینےمیں رات دن کس طرح گزارتے ہو اور اپنے اعضائے بدن کو خدا کی نافرمانی سے کیوں کر بچاسکتے ہو، خبردار! کوئی شخص اس مہینے کی راتوں میں سوتا نہ رہے اور اس کے دنوںمیں حق تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ رہے، کیوں کہ ایک روایت میں آیا ہے : ماہِ رمضان میں دن کا روزہ افطار کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ دس لاکھ انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے اور شبِ جمعہ یا جمعہ کے دن ہر گھڑی میں خدائے تعالیٰ ایسے ہزاروں انسانوں کو آتشِ جہنم سے رہائی بخشتا ہے جو جہنمی بن چکے ہوتے ہیں۔

- Instruction: But if you violate any of these matters, this will decline the degree of your fasting. My father (s) narrated that when the Holy Messenger of Allah (s), heard a woman, who claimed observing fasting, insulting one of her bondwomen, he summoned her, brought her some food, and ordered her to eat. ‘I am observing fasting!’ she stated. But the Holy Prophet (s) answered, ‘How can you be fasting while you have insulted your bondwoman?’ Verily, fasting is not to abstain from eating and drinking; rather, Almighty Allah has decided fasting to be a screen from all spoken and done evildoings. Too little is the fasting and too much is the feeling of hunger!’
- Instruction (Urdu): نیز اس مہینے کی آخری رات اور دن میں حق تعالیٰ اپنے اتنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے کہ جتنے پورے رمضان میں آزاد کرچکا ہے۔ لہٰذا اے عزیزو! توجہ کرو کہ کہیں ایسانہ ہو یہ مبارک مہینہ تمام ہوجائے اور تمہاری گردن پر گناہوں کا بوجھ باقی رہ جائے اور جب روزہ دار اپنے روزوں کا اجر پارہے ہوں تو تم ان لوگوں میں گنے جاؤ جن کو محروم کیا جارہا ہو۔ تمہیں تلاوتِ قرآن کرکے افضلِ وقت میں نمازیں بجا لاکر دیگر عبادتوں میں سعی کرکے اور توبہ واستغفار کرکے خدا کا تقرب حاصل کرنا چاہیے، کیوں کہ امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے :جو شخص اس بابرکت مہینے میں نہیں بخشا گیا تو وہ آئندہ رمضان تک نہیں بخشا جائے گا سوائے اس کے کہ وہ عرفہ میں حاضر ہوجائے۔ اب تمہیں ان چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے جن کو خدائے تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ یعنی حرام چیزوں سے روزہ افطار نہیں کرناچاہیے، اور تمہیں اس طرح رہنا چاہیےجیسے امام جعفر صادقؑ نے وصیت ونصیحت فرمائی ہے : جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کانوں آنکھوں بدن کے رونگٹوں اور جلد اور دوسرے سب اعضاء کو بھی روزہ دار ہونا چاہیے یعنی ان کو حرام بلکہ مکروہ چیزوں اور کاموں سے بچائے رکھو۔ نیز فرمایا : تمہارے روزہ دار ہونے کادن اس طرح کا نہ ہو جیسے تمہارے روزہ دار نہ ہونے کا دن تھا۔

- Instruction: Imam Ali (a) has said, “Too many are the fasting ones who suffer nothing but thirst. Likewise, too many are the worshippers who suffer nothing but fatigue. How wonderful the sleeping and eating of the courteous ones are!”
- Instruction (Urdu): پھر فرمایا : روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے تک ہی نہ ہو، بلکہ حالتِ روزہ میں اپنی زبانوں کو جھوٹ سے اور آنکھوں کو حرام سے دور رکھو۔ روزے کی حالت میں کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرو، کسی سے حسد نہ رکھو۔ کسی کا گلہ شکوہ نہ کرو اور جھوٹی قسم نہ کھاؤ بلکہ سچی قسم سے بھی پرہیز کرو، گالیاں نہ دو، ظلم نہ کرو، جہالت کا رویہ نہ اپناؤ۔ بیزاری ظاہر نہ کرو اور یادِ خدا اور نماز سے غفلت نہ برتو۔ ہر وہ بات جو نہ کہنی چاہیے اس سے خاموشی اختیار کرو، صبر سے کام لو، سچی بات کہو برے آدمیوں سے الگ رہو،بری باتوں، جھوٹ بولنے، بہتان لگانے، لوگوں سے جھگڑنے، گلہ کرنے اور چغلی کھانے جیسی سب چیزوں سے پرہیز کرو۔ اپنے آپ کو آخرت کے قریب جانو۔

- Instruction: It has been narrated on the authority of Jabir ibn Yazid that Imam Muhammad Baqir (a) narrated that the Holy Prophet (s) said to Jabir ibn ‘Abdullah Ansari, “Listen, Jabir! This is the month of Ramazan. If one observes fasting on the days of this month, spends a part of its nights with acts of worship, wards off his stomach and private parts, and suppresses his tongue, if one does all these things, he will dispose of all his sins in the same way as the month ends.” Jabir commented, “O Allah’s Messenger, how wonderful these words are!” The Holy Prophet (s) answered, “But how difficult these terms are!”
- Instruction (Urdu): حضرت قائم آلِ محمدؑ کے ظہور کے انتظار میں رہو، آخرت کے ثواب کی امید رکھو، آخرت کے لئے اچھے اعمال کا ذخیرہ کرو۔ تمہیں خدا کے خوف میں اس طرح عاجز وخوار رہنا چاہیے، جیسے وہ غلام جو اپنے آقا سے ڈرتا ہے۔ اس کا دل رکا ہوا اور جسم سہما ہوا ہوتا ہے۔ خدا کے عذاب سے ڈرو اور اس کی رحمت کی امید رکھو۔ اے روزہ دارو! تمہارے دل عیبوں سے تمہارے باطن مکر و فریب سے اور تمہارے بدن آلودگیوں سے پاک ہونے چاہیے۔ اﷲکے سوا دوسرے خداؤں سے بیزاری اختیار کرو اور روزے کی حالت میں اپنی محبت و نصرت کو اﷲکے لئے خالص کرو۔ ہر وہ چیز ترک کردو جس سے خدا نے ظاہر و باطن میں روکا ہے خدا وند قہار سے ظاہر و باطن میں ایسا خوف رکھو جو خوف رکھنے کا حق ہے اور روزے کی حالت میں اپنا بدن اور روح خدا کے حوالے کردو اور اپنے دل کو صرف اس کی محبت اور یاد کے لئے یکجا کر لو اور اپنے جسم کو ہر اس چیز کے لئے فرما بردار بناؤ جس کا خدا نے حکم دیا ہے۔ اگر تم ان سب چیزوں پر عمل کر لو جو روزے کے لئے مناسب ہیں توپھر تم نے خدا کی فرمائشوں پر عمل کیا ہے اور جن چیزوں کا میں نے تذکرہ کیا ہے اگر ان میں سے کچھ کم کر دوگے تو تمہارے ثواب اور فضیلت میں کمی آجائے گی۔

- Instruction: In fact, the best of deeds in the month of Ramazan is the recitation of the Holy Qur’an. It is thus highly advisable to recite it in this month in a way different from reciting it in the other months, since its revelation was in Ramazan. A Hadith reads that everything has a springtime; and the springtime of the Holy Qur’an is the month of Ramazan. The reward of reciting the whole Qur’an is doubled when its recitation is dedicated to the souls of the holy fourteen Infallibles (a) by dedicating each recitation to each one of them respectively. According to some narrations, the reward of one who dedicates the recitation of the Holy Qur’an to the Holy Infallibles (a) is that one shall be included with them on the Resurrection Day.
- Instruction (Urdu): بے شک میرے والد بزرگوار نے فرمایا:رسول اﷲؐنے سنا کہ ایک روزہ دار عورت اپنی کنیز کو گالیاں دے رہی ہے تو آنحضرتؐ نے کھانا منگوایا اور اس عورت سے کہا: یہ کھانا کھا لو! اس نے عرض کی : میں روزے سے ہوں! آنحضرتؐ نے فرمایا : یہ کس طرح کا روزہ ہے جب کہ تونے اپنی کنیز کو گالیاں دی ہیں ؟! روزہ محض کھانے پینے سے رکنے ہی کا نام نہیں بلکہ حق تعالیٰ نے تو روزے کو تمام برے کاموں یعنی بد کرداری و بد گفتاری وغیرہ سے محفوظ قرار دیا ہےلہٰذا اصل و حقیقی روزے دار بہت کم اور بھوکے پیاسے رہنے والے بہت زیادہ ہیں امیر المؤمنینؑ نے فرمایا :کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ جن کے لئے اس میں بھوکا پیاسا رہنے کے سوا کچھ نہیں اور کتنے ہی عبادت گزار ہیں کہ جن کا حصہ ان میں سوائے بدن کی زحمت اور تھکن کے کچھ نہیں ہے۔

- Instruction: It is also advisable to say supplications, offer prayers, implore for Almighty Allah’s forgiveness, and confess His Oneness (by repeating the phrase of La-ilaha illal-lahu there is no god save Allah) as much as possible in Ramazan. In this regard, Imam Ali ibn Husain Zainul Aabedin (a) used to stop talking in Ramazan except with phrases of prayers, glorification of Almighty Allah, implorations of His forgiveness, and phrases of confessing of His magnificence (ie. Takbir saying: Allahu Akbar).
- Instruction (Urdu): کیا کہنا اس عقل مند کی نیند کا جو جاہل کی بیداری سے بہتر ہے اور کیا کہنا اس صاحبِ عقل وفراست کا جس کا روزے سے نہ ہونا روزہ داروں سے بہتر ہے۔ جابر ابن یزید نے امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے رسول اللہؐنے جابر ابن عبد اﷲؓسے فرمایا: اے جابر! یہ رمضان مبارک کا مہینہ ہے، جو شخص اس کے دنوں میں روزہ رکھے اور اس کی راتوں کے کچھ حصے میں عبادت کرے۔ اپنے شکم اور شرم گاہ کو حرام سے بچائے رکھے اپنی زبان کو روکے رکھے تو وہ شخص گناہوں سے اس طرح باہر آئے گا جیسے ماہِ رمضان سے باہر آئے گا۔ جناب جابرؓ نے عرض کی: یا رسول اﷲ! آپؐ نے بہت اچھی حدیث فرمائی ہے، آپؐ نے فرمایا :وہ شرطیں کتنی سخت ہیں جو میں نے روزے کے لئے بیان کی ہیں۔ مختصر یہ کہ اس ماہ مبارک کے اعمال دو مطالب اور ایک خاتمہ میں ذکر کیے جائیں گے۔

---

Published by Fatima Zahra Imamia Centre, North Ipswich QLD, https://fzic.org.
Free to read.
