Merits
فضیلت
The Holy Infallibles (a) are reported to have said innumerable words about the merits of offering the Night Prayer; they have therefore described it as the honor of the true faithful believers. It brings about good health, erases the sins committed in days, saves from the loneliness in graves, beautifies the face, perfumes the body smell, and produces sustenance. Wealth and sons are the ornament of this worldly life, and to offer eight units of prayer at the last hours of night, in addition to a one-unit prayer, is the ornament of the Hereafter. These two ornaments may be granted together by Almighty Allah to some people. Other traditions have it that one who claims that he offers prayers regularly at night and still he suffers hunger is liar, because the night prayer guarantees the sustenance of the next day.
جاننا چاہیے کہ شب بیداری اور اس کی فضیلت میں صاحبانِ عصمت و طہارتؑ سے بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے : شب بیداری مومن کا شرف ہے، نمازِ تہجد بدن کی صحت اور دن کے گناہوں کا کفارہ اور وحشتِ قبر کے دور ہونے کا سبب ہے۔نیز جاننا چاہیے کہ شب بیداری اور اس کی فضیلت میں صاحبانِ عصمت و طہارتؑ سے بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ چہرے کی رونق،بدن میں خوشبو اور روزی میں اضافے کا ذریعہ ہے،جس طرح مال اور اولاد دنیا وی زندگی کی زینت ہیں اسی طرح رات کے آخری حصے میں آٹھ رکعت تہجد اور وتر آخرت کی زینت ہیں۔ اور بعض اوقات حق تعالیٰ ان دونوں زینتوں کو اپنے کچھ بندوں کے ہاں یکجا بھی کر دیتا ہے،لہٰذا جھوٹا ہے وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ میں نمازِ تہجد پڑھتا ہوں اور دن کو بھو کارہ جاتا ہوں، کیوں کہ نماز تہجد روزی کی ضامن ہے۔
Imam Sadiq (a) has reported that the Holy Prophet (s) said to Imam Ali (a), “O Ali! I shall give you some moralities that you should observe... Abide by the night prayer. Abide by the night prayer. Abide by the night prayer. Abide by the midday prayer. Abide by the midday prayer. Abide by the midday prayer.” It is apparently understood from this tradition that the night prayer stands for the thirteen units of prayer while the midday prayer is the eight units of the supererogatory noon prayer.
امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے : حضرت رسولؐ نے امیرالمومنینؑ سے فرمایا: یا علی!میں تمہارے ہی بارے میں تمہیں چند وصیتیں کرتا ہوں اور چند ایسی خصلتیں بتاتا ہوں کہ انہیں تم ضرور یاد رکھنا :اس کے بعد کہا : خداوندا! علی کی مدد فرما!پھر وہ چند خصلتیں بتانے کے بعد ارشاد فرمایا: تم پر نماز تہجد کی ادائیگی لازم ہے تم پرنماز تہجدکی ادائیگی لازم ہے تم پر نماز تہجد کی ادائیگی لازم ہے تم پر نمازِ زوال کی ادائیگی لازم ہے تم پر نمازِزوال کی ادائیگی لازم ہے اور تم پر نماز زوال کی ادائیگی لازم ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہاں نمازِ شب سے آنحضرت ؐ کی مراد تیرہ رکعت نماز تہجد اور نماز زوال سے مراد ظہر کے نوافل ہیں جو زوال کے وقت پڑھے جاتے ہیں۔
Anas ibn Malik has reported that he heard the Holy Prophet (s) saying, “To offer two units of prayer in the midst of night is more favorable to me than possessing this world and whatever therein.” When he was asked why those who practice the night worship had shining faces, Imam Ali ibn Husain Zayn Abidin (a) answered, “As they withdrew themselves with their Lord, He granted them of His Light.” In conclusion, traditions about the merits of offering the night prayer are very numerous. It is thus discommended to avoid the night acts of worship.
انس نے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت رسولؐ کو یہ فرماتے سنا: رات کی تاریکی میں دو رکعت نماز میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ کسی نے امام زین العابدینؑ سے پوچھا: آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ جو لوگ نمازِ شب ادا کرتے ہیں ان کے چہرے دوسروں سے زیادہ نورانی ہوتے ہیں؟تو آپ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ خدائے تعالیٰ کے ساتھ خلوت کرتے ہیں اور اﷲتعالیٰ انہیں اپنے نور سے ڈھانپ دیتا ہے۔ اس بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں۔ اور رات کو بیدار نہ ہونا مکروہ ہے۔
Shaikh has reported through an authentic chain of authority that Imam Sadiq (a) said, “All servants (of Allah) wake up once, twice, or even more times at night. If a servant does not go for the night worship, Satan will open his legs and urinate in his ear. This is why those who do not do the night worship wake up in the morning heavy and lazy.”
شیخ ؒنے صحیح سند کے ساتھ امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: کوئی بھی بندہ ایسا نہیں ہے جو رات کو ایک دو یا اس سے زیادہ مرتبہ بیدار نہ ہوتا ہو، اگر وہ اُٹھ کھڑا ہوتو بہتر ورنہ شیطان اپنے پاؤں پھیلا کر اس کے کانوں میں پیشاب کر دیتا ہے۔ آیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو نماز شب کے لئے نہیں اُٹھتے وہ جب صبح کو بیدار ہوتے تو بوجھل سست اور پریشان طبیعت کے ساتھ اٹھتے ہیں۔
Al-Barqi has reported through a valid chain of authority that Imam Baqir (a) said, “There is a devil called Raha appointed for the night. When a servant (of Allah) intends to get up for the night prayer, this devil inspires to him that the time of prayer has not yet come. When the servant tries to get up again, the devil repeats the same evil inspiration and prevents the servant from offering the prayer until the day dawns. When it dawns, the devil urinates in the ear of that servant and goes back moving its tail in joy.”
شیخ برقی ؒنے معتبر سند کے ساتھ امام محمدباقرؑ سے روایت کی ہے کہ فرمایا: رات کا ایک شیطان ہوتا ہے کہ جس کو’’رہا‘‘کہا جاتا ہے پس جب انسان نیند سے بیدار ہوتا اور نمازِ شب ادا کرنے کے لئے اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ شیطان اس سے کہتا ہے : ابھی تمہارے اٹھنے کا وقت نہیں ہوا، تب وہ سو جاتا ہے اور جب وہ دوبارہ جاگتا ہے تو یہ اس سے کہتا ہے کہ اتنی بھی کیا جلدی ہے، ابھی بہت وقت ہے!اسی طرح وہ مسلسل اسے روکتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح صادق طلوع ہوجاتی ہے، اس وقت وہ ملعون اس شخص کے کان میں پیشاب کر کے بڑے ناز و نخرہ کے ساتھ دُم ہلاتا ہوا چلاجاتا ہے۔
Ibn Abi-Jumhur reported the Holy Prophet (s) as saying to his companions, “When you go to sleep, Satan ties three knots at your head. Each knot inspires to you that the night is still long; therefore, you would better sleep. When you wake up and mention Almighty Allah, one knot is untied. When you do the ritual ablution, another knot is untied. When you perform the prayer, the third knot is untied. Hence, you will find yourselves active and positive in the morning; lest, you find yourselves inactive and frowning.” This tradition is reported in Sunni books of hadith, too.
ابن ابی جمہورؒ نے حضرت رسولؐ سے روایت کی ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تم میں سے جو بھی شخص رات کو سوتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک دیتا ہے ’’ عَلَیْکَ لَیْلٌ طَوِیلٌ فَارْقُدْ‘‘ یعنی رات بہت لمبی ہےلہٰذا سوتے رہو۔ پھر جب وہ شخص بیدار ہوتا اور خدا کو یاد کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کی طبیعت ہشاش بشاش اور پاک و پاکیزہ ہوتی ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ سستی اور خباثت کے ساتھ صبح کرتا ہے، یہ روایت اہل سنت علماء نے بھی نقل کی ہے۔
Al-Qutb Rawandi reported Imam Ali Ameer-ul-Momineen (a) as saying, “Do not expect three matters as long as you have been engaged in three: Do not expect ability to do night worship as long as you overeat. Do not expect bright facedness as long as you spend the whole night sleeping. Do not expect security in your life as long as you accompany sinful people.”
قطب راوندیؒ نے روایت کی ہے کہ امیر المومنینؑ نے فرمایا: تین چیزوں کے ساتھ تین چیزوں کی آرزو نہ کرو شکم سیری کے ساتھ شب بیداری کی آرزو نہ کرو،رات بھر سوتے رہنے کے ساتھ نورانی چہرہ کی آرزو نہ کرو اور فاسقوں کے ساتھ دوستی میں دنیا کے امن و سکون کی آرزو نہ کرو۔
Al-Qutb Rawandi has also reported that Prophet Jesus (a) called his mother (a) after her death and asked, “Mother, do you wish to return to life?” His mother answered, “Yes, I do, so that I will offer prayers to Almighty Allah in the midst of night and observe fasting in the extremely hot days. O son, this path is horrifying.”
نیز قطب الدین راوندیؒ ہی سے روایت ہے کہ جب حضرت مریم ؑ کی وفات ہوگئی تو ان کے فرزند حضرت عیسیٰؑ نے ان سے کہا: والدۂ گرامی! میرے ساتھ بات کریں، آیا آپ چاہتی ہیں کہ دنیا میں واپس آجائیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! مگر اس لئے کہ سخت سردی کی راتوں میں نمازتہجد ادا کروں اور سخت گرمی کے دنوں میں روزے رکھوں! اے فرزندِ عزیز! یہ بڑا ہی کٹھن راستہ ہے۔
Share this
