Skip to content
4 Jumada al-Ula 14484 Jumada al-Ula 1448in Pakistan4 Jumada al-Ula 1448in IndiaMaghribMaghrib in IpswichMaghrib in Ipswich

Friday a day of I.Asr (a)روز جمعہ امام عصر(عج) کا دن ہے

Abu Sulemaan bin Urma says: I went to Samarra at the time of Mutawakkil’s reign and met Saeed-e-Hajib (the gatekeeper) to whom Mutawakkil had handed over Imam Naqi (a) so that he would murder his holiness. When I reached him, he asked: do you wish to witness your Lord? I replied: Glorious and Mighty is my Lord, no vision can grasp Him and naked eyes are incapable of witnessing Him. He said: The same man whom you believe that he is your Imam. I said: I would not hesitate to witness him. He said: I have been ordered to assassinate him and will assassinate him tomorrow; there is a messenger near him right now, you can meet him when he departs. After a short while, that messenger departed from Imam and Saeed e Hajib asked me to go near Imam (a). I entered the house in which Imam was imprisoned. I saw his holiness standing near a grave that was already dug; I went inside and greeted him, then wept severely. His holiness asked: Why are you weeping? I said: Because of what I witness. He replied: Do not weep because of it, this act will not be committed by them. I felt relaxed on hearing his reply. Then his holiness said: He will not live for more than two days until Allah sheds his blood and the blood of his friend whom you met. Sulemaan says: By God, not two days had passed that he was killed. I said to Imam Naqi (a): The Holy Prophet (s) once said: Do not envy the days so they envy you in return. His holiness said: Indeed, although this narration has an interpretation: Saturday is for the Holy Prophet (s). Sunday is for the commander of the faithful (a). Monday is for Imam Hasan and Imam Husain (a). Tuesday is for Ali bin Husain, Mohammad bin Ali and Jafar bin Mohammad (a). Wednesday is for Musa bin Jafar, Ali bin Musa, Mohammad bin Ali and for me (Ali bin Mohammad) (a). Thursday is for my son, Hasan (a). Friday is for the Riser of the Holy Progeny (a).

ابو سلیمان بن اُرْمَہ بیان کرتے ہیں: میں متوکل کے دورِ حکومت میں سامرّہ گیا اور سعیدِ حاجب (دربان) سے ملا، جسے متوکل نے امام علی نقیؑ کو قتل کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے مجھ سے کہا: کیا تم اپنے رب کو دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے جواب دیا: میرا رب پاک و منزہ اور بلند و برتر ہے، نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں اور ظاہری آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں۔ اس نے کہا: میری مراد وہ شخص ہے جسے تم اپنا امام مانتے ہو۔ میں نے کہا: میں انہیں دیکھنے میں ذرا بھی تامل نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: مجھے ان کے قتل کا حکم دیا گیا ہے اور میں کل انہیں قتل کر دوں گا۔ اس وقت ان کے پاس ایک قاصد موجود ہے، جب وہ چلا جائے تو تم ان سے ملاقات کر سکتے ہو۔ کچھ دیر بعد وہ قاصد امامؑ کے پاس سے نکل آیا۔ سعیدِ حاجب نے مجھے امامؑ کے پاس جانے کی اجازت دی۔ میں اس گھر میں داخل ہوا جہاں امامؑ قید تھے۔ میں نے دیکھا کہ امامؑ ایک پہلے سے کھودی ہوئی قبر کے قریب کھڑے ہیں۔ میں اندر گیا، امامؑ کو سلام کیا اور پھر شدت سے رونے لگا۔ امامؑ نے فرمایا: تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، اس کی وجہ سے۔ امامؑ نے فرمایا: مت روؤ، یہ لوگ اس کام کو انجام نہیں دے سکیں گے۔ ان کا یہ فرمان سن کر مجھے اطمینان ہو گیا۔ پھر امامؑ نے فرمایا: وہ شخص دو دن سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا، یہاں تک کہ اللہ اس کا خون اور اس کے ساتھی کا خون بہا دے گا جس سے تم ملے ہو۔ سلیمان کہتے ہیں: خدا کی قسم! دو دن بھی نہیں گزرے تھے کہ وہ قتل کر دیا گیا۔ میں نے امام علی نقیؑ سے عرض کیا: رسولِ خداؐ نے فرمایا ہے: ‘دنوں سے حسد نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دن تم سے حسد کرنے لگیں۔ امامؑ نے فرمایا: جی ہاں، یہ حدیث درست ہے، مگر اس کی ایک تفسیر بھی ہے: ہفتہ رسولِ خداؐ کے لیے ہے۔ اتوار امیرالمؤمنین علیؑ کے لیے ہے۔ پیر امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے لیے ہے۔ منگل امام علی بن الحسینؑ، امام محمد بن علیؑ اور امام جعفر بن محمدؑ کے لیے ہے۔ بدھ امام موسیٰ بن جعفرؑ، امام علی بن موسیٰؑ، امام محمد بن علیؑ اور میرے لیے (علی بن محمدؑ) ہے۔ جمعرات میرے فرزند امام حسنؑ کے لیے ہے۔ جمعہ آلِ محمدؑ کے قائم (امام مہدیؑ) کے لیے ہے۔

Alongside this in Thursday & Friday

Sayings on this subject

DonateSupport the appeal