Skip to content
24 Jumada al-Ula 144824 Jumada al-Ula 1448 in Pakistan24 Jumada al-Ula 1448 in IndiaMaghribMaghrib in IpswichMaghrib in Ipswich

Tawassul in Hardshipسختیوں میں توسل

Urdu translation, read aloud اردو ترجمہ

Read by an AI voice from the Urdu translation on this page. The Arabic is never voiced by a machine; follow the Arabic text.

The great cleric, Iraqi, states in his book Darus-Salaam that: Mulla Qasim Rishti says: I went to Isfahan and left for the cemetery of Takht e Faulaad on a day other than Thursday. As I was a stranger in that city, I did not know that the people of that city visit their dead ones only on Thursday nights. On other days, these cemeteries remain quite empty and nothing can be seen there. While walking on the street, I thought of smoking Hookah. The servant who had accompanied me informed me that nothing can be found in that surrounding except on the eves of Friday. I said: I will not abandon my visit to the graveyard for smoking Hookah. I entered the graveyard and had just begun reciting Fateha when I witnessed a man sitting in a corner of the courtyard.

عالم بزرگ مرحوم عراقی کتاب دارالسّلام میں لکھتے ہیں کہ ملّا قاسم رشتی جو معروف علماء میں سے ایک ہیں وہ نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کسی مہم کام کے لئے اصفہان گیا ہوا تھا جمعرات کے علاوہ ایک دن تفریح کے لئے شہر (قبرستان تخت فولاد) کے جو با برکت زمین ہے چلا گیا اس شہر میں ناواقف تھا مجھے نہیں معلوم تھا کہ شب جمعہ لوگ اھل قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور بہت زیادہ بھیڑ اور رش ہوتاہے لیکن باقی دنوں میں خلوت ہوتی ہے وہاں کھانے پینے کی چیزیں نہیں ملتی ہیں صرف کبھی کبھی کوئی زمیندار یا کوئی مسافر وہاں سے گزرتاہے جب میں خیابان سے عبور کرتا تھا تو دل چاہتا تھا کہ اپنے ہمراہ حقہ بھی لے جاؤں میرے ہمراہ جو نوکر تھا اس نے کہا اگر آپ چاہتے ہیں تو بتادیں اپنے ساتھ حقّہ لے جائیں چونکہ شب جمعہ کے علاوہ وہاں کوئی اور چیز نہیں ملتی ہے حقہ بیچنے والے نہیں آتے ہیں میں نے کہا حقہ کی خاطر واپس نہیں ہوتے ہیں یہاں بزرگ لوگوں کی قبریں ہیں سیدھے قبرستان چلے گئے قبرستان میں داخل ہوئے اور سورہ فاتحہ پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔

That man asked: Mulla Qasim! Why did you not greet as per the Prophet’s tradition on entering here? I became embarrassed and apologized to him, then said: I was far and wanted to greet you when I come close. He said: No. You clerics do not have moral ethics. I was awestruck by him. I went closer and greeted him. Then he took my parents name and said: They did not have a boy child and your father vowed that if Allah blesses him with a boy, he will make him a knower of Hadith and a noble person. Thereupon, Allah bestowed him with you and he also fulfilled his vow. I said: Yes, I have heard this. Then he said: If you wish to smoke Hookah, it is available with me in my bag. Pick it and prepare it so that we can smoke it together.

ایک شخص گوشہ میں بیٹھا ہوا تھا درویش جیسا دکھائی دیتا تھا وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا ملّا قاسم جب تم یہاں آئے تو کیوں سیرت پیغمبر کے مطابق سلام نہیں کیا میں اس کے کلام سے شرمندہ ہوا معذرت کرلی کہ میں دور تھا میں نے چاہا کہ نزدیک ہوجاؤں اس وقت سلام کروں فرمایا نہیں تم ملا میں ادب نہیں ہے اس سے میرے دل میں ایک ہیبت پیدا ہوئی آگے جا کر سلام کیا اس نے جواب دیا اس نے میرے ماں باپ کا نام لیا کہ فلاں فلاں تھے اور فرمایا کہ اس کا بیٹا زندہ نہیں بچتا تھا اس لئے اس نے نذر کی تھی کہ اگر خدا نے اس کو بیٹا عنایت کیا تو اھل حدیث اور اھل خیر سے ہوجائے گا خدا نے تجھ جیسا فرزند تیرے باپ کو دیا ہے۔

I thought of commanding my servant to do it for me, but just when this thought struck my mind, he said: No, prepare it by yourself. I said: Surely. Then I prepared it and smoked, then passed it on to him and he smoked it as well. Then he returned it to me and said: I came here a few days ago. I had no liking for the people of this city or the city itself. I have a friend in Mazendaraan whom I want to visit. Then he said to me: In this graveyard, the graves of a number of Prophets are present. Rise and visit them alongside me. Then he stood up, lifted his bag and we went together until we reached a place, he said: Here lie the graves of prophets. Then he recited a supplication of Ziyarat which I had never seen anywhere in the books. Anyway, I recited them with him. Then he distanced himself from the graves and said: I am leaving for Mazenderaan, you can ask anything from me.

اس نے بھی نذر کو پورا کیا میں نے عرض کیا کیوں نہیں یہ واقعہ میں نے تفصیل سے سنا ہے اس کے بعد فرمایا اگر حقہ پینا چاہتے ہو تو تھیلا میں حقہ موجود ہے باہر نکالو اور تیار کرلو میں بھی پیونگا میں نے چاہا کہ نور کو آواز دوں اور حق بنانے کا حکم دوں یہ خیال اچانکمیرے ذہن میں آیا تو فرمایا کہ نہیں خود حق بنا لو میں نے عرض کیا اچھا اور ہاتھ کو تھیلا میں ڈال دیا اس میں حقہ تھا تازہ پانی ڈالا ہوا تھا اس کو باہر نکالا تمباکو کوئلے اور باقی ضروری چیزیں موجود تھیں میں نے حقہ تیار کیا خود پیا اور اس کو دیا اس کے بعد فرمایا کہ حقہ کی اگ کو گرادیں اس حق کو تھیلا میں رکھ دو میں نے ان کی اطاعت کی فرمایا: چند روز سے یہاں آیا ہوں لیکن اس شہر والوں کو پسند نہیں کرتا ہوں اس لئے شہر میں داخل نہیں ہوا اب میں ایک دوست کو دیکھنے کے لئے مازندران جارہاہوں اس کے بعد فرمایا اس قبرستان میں چند پیغمبر دفن ہیں کسی کو پتہ نہیں آئیے ان کی زیارت کرتے ہیں اٹھے اور تھیلا کو لئے ہوئے چل پڑے۔ یہاں تک کہ ایسی جگہ پہنچے فرمایا کہ پیغمبر کی قبر یہاں پر ہے زیارت پڑھی میں نے اس عبارت کو کتاب میں نہیں دیکھا تھا میں بھی ان کے ساتھ پڑھتا رہا

I asked him to teach me the science of Alchemy. He said: I will not teach that to you. I insisted. He said: The livelihood and sustenance of every man is destined and defined. You will get that which you desire in the last stage of your life. I asked: What would happen if I obtain freedom from poverty? He said: This world has no value. I said: I have not made this demand out of love for this world. He asked: Then why do you ask only for the worldly affairs? But I kept on insisting on my demand. He said: If you meet me in the Sahla Mosque, I will fulfill your demand. I said: Then teach me a supplication. He said: I will teach you two supplications. One is specific to you and the other is for all. If a distressed believer recites it, it will certainly prove to be effective. Then he recited those supplications for me.

اس نے بھی نذر کو پورا کیا میں نے عرض کیا کیوں نہیں یہ واقعہ میں نے تفصیل سے سنا ہے اس کے بعد فرمایا اگر حقہ پینا چاہتے ہو تو تھیلا میں حقہ موجود ہے باہر نکالو اور تیار کرلو میں بھی پیونگا میں نے چاہا کہ نوکر کو آواز دوں اور حق بنانے کا حکم دوں یہ خیال اچانک میرے ذہن میں آیا تو فرمایا کہ نہیں خود حقہ بنا لو میں نے عرض کیا اچھا اور ہاتھ کو تھیلا میں ڈال دیا اس میں حقہ تھا تازہ پانی ڈالا ہوا تھا اس کو باہر نکالا تمباکو کوئلے اور باقی ضروری چیزیں موجود تھیں میں نے حقہ تیار کیا خود پیا اور اس کو دیا اس کے بعد فرمایا کہ حقہ کی آگ کو گرادیں اس حق کو تھیلا میں رکھ دو میں نے ان کی اطاعت کی فرمایا: چند روز سے یہاں آیا ہوں لیکن اس شہر والوں کو پسند نہیں کرتا ہوں اس لئے شہر میں داخل نہیں ہوا اب میں ایک دوست کو دیکھنے کے لئے مازندران جارہاہوں اس کے بعد فرمایا اس قبرستان میں چند پیغمبر دفن ہیں کسی کو پتہ نہیں آئیے ان کی زیارت کرتے ہیں اٹھے اور تھیلا کو لئے ہوئے چل پڑے۔ یہاں تک کہ ایسی جگہ پہنچے فرمایا کہ پیغمبر کی قبر یہاں پر ہے زیارت پڑھی میں نے اس عبارت کو کتاب میں نہیں دیکھا تھا میں بھی ان کے ساتھ پڑھتا رہا اس کے بعد ان قبروں سے دور ہوگئے فرمایا میں مازندران جانا چاہتاہوں مجھ سے کوئی یادگار چیز طلب کرو میں نے ان سے علم کیمیا کی خواہش کی فرمایا نہیں سکھاتاہوں میں نے اصرار کیا فرمایا رزق اور روزی مقدّر ہے جب تک زندہ ہے روزی چلے گی میں نے کہا کیا ہوتاہے اس سے دربدری سے نجات حاصل کروں گا۔

I said: Unfortunately, I do not have a pen to write down this supplication and also lack the ability to memorize them. He said: Take pen and paper from my bag. I inserted my hand inside the bag and to my astonishment, the Hookah and other equipment which were previously in his bag, were no more there. It only had a pen and paper, enough to meet my need and for me to note down those two supplications. I was highly astonished. He told me harshly: Be quick! Do not waste my time as I have to leave. I became frightened, lowered my head towards the ground and began to write. He read out the first supplication and I wrote it down. On reaching the second supplication, he recited it this way. It was related that whoever is affected with grief, distress and trouble should recite the following 70 times…

فرمایا: اس دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے میں نے عرض کیا اس کو دنیا کو دوست رکھنے کی وجہ سے نہیں چاہتاہوں فرمایا پھر کیوں ان چیزوں کو چاہتے ہو کہ جو دنیا کے ساتھ مربوط ہیں۔ پھر میں نے اپنی خواہش کا تکرار کیا تو فرمایا اگر مسجد سہلہ میں مجھے دیکھا تو سکھادوں گا پس میں نے عرض کیا کوئی دعا یاد کرادو فرمایا دو دعائیں یاد کراتاہوں ایک تمہارے ساتھ مخصوص ہے اور دوسری سے دوسروں کو نفع پہنچے گا اگر کوئی مومن کسی بلاء میں گرفتار ہو تو یہ دعا پڑھے اس میں بہت تاثیر ہے بہت زیادہ مجرب ہے انہوں نے دونوں دعائیں یاد کرادی میں نے عرض کیا افسوس کہ میرے پاس قلم کاغذ نہیں ہے تا کہ لکھوں اور زبانی یاد نہیں کرسکتا ہوں فرمایا: میرے پاس قلم کاغذ ہے اس کو تھیلا سے نکال لو ہاتھ کو تھیلا میں ڈال دیا وہاں نہ حقہ تھا نہ باقی چیزیں تھیں صرف ایک قلم اور کاغذ تھا اتنے میں اس نے کہا کہ جلدی کرو مجھے نہ روکو میں جانا چاہتاہوں میں نے جلدی سے لکھنا شروع کیا اور مخصوص دعا کو املا کرایا اور میں نے لکھا جب دوسری دعا میں پہنچے تو یوں فرمایا۔۔۔

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

Bismi allaahi ar-rahmaani ar-raheem

In the Name of Allah, the most Gracious, the most Merciful.

اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

يَا مُحَمَّدُ يَا عَلِيُّ يَا فَاطِمَةُ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ، اَدْرِكْنِيْ وَلَا تُهْلِكْنِيْ۔

Yaa muhammadu yaa 'aliyyu yaa faatimatu yaa saahiba az-zamaani, adriknee walaa tuhliknee.

O Muhammad, O Ali, O Fatimah, O the leader of the time, take me over and don’t destroy me.

اے محمدؐ، اے علیؑ، اے فاطمہؑ، اے امام زمانہ (عج) مجھ تک پہنچیے اور مجھے ہلاکت سے بچائیے۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ۔

Allaahumma salli 'alaa muhammadin wa-aali muhammad.

O Allah, send blessings upon Muhammad and the Household of Muhammad.

اے معبود! رحمت نازل فرما حضرت محمدؐ اور انکی آلؑ پر۔

I began to ponder over the text. When he found me lost in a thought, he asked: do you find this text to be wrong? I said: Yes, because you have addressed four people in it and your verb should be accordingly in a plural form. He said: You are mistaken. At present, it is Imam Mahdi (a) who systemizes this world, and no one else can have possession over it. In our supplication, we regard those three noble personalities as our intercessors near Imam Mahdi (a), and we seek help only from his holiness (a).

تھوڑی دیر صبر کیا فرمایا اس عبارت کو غلط جانتے ہو میں نے عرض کیا کہ ہاں چونکہ خطاب چار سے ہے اور فعل اس کے بعد جمع لانا چاہیئے۔ فرمایا تم نے اشتباہ کیا ہے چونکہ اس زمانے میں اس جہان کو منظم کرنے والا حضرت صاحب الزمان ہے دوسرے افراد اس کے ملک میں تصرف نہیں کرتے ہیں ہم دعا میں حضرت محمد علی فاطمہ کو اس بزرگوار کے پاس شفاعت کے لئے پڑھتے ہیں اور صرف امام زمان سے مدد طلب کرتے ہیں اس دن میری عجیب حالت ہوئی تھی اسی حالت میں شہر میں داخل ہوا اور حاجی محمد ابراہیم کے گھر گیا اس کا اپنا کتابخانہ تھا جب مجھ کو اس حالت میں دیکھا تو کہا کیا ہوا ہے کیا بخار آیا ہے؟

I felt that he stated a nice point and began to write the supplication, but when I lifted my head, I found no one there. I asked my servant about him. He said: I didn’t see anyone. I returned to my city with a condition that I never came across ever before. Then I entered the house of Haji Karbasi. He asked: Do you have fever? I said: No. Then I narrated the entire incident to him. He said: This supplication was taught to me by Sheikh Mohammad Bedabaadi and I have written it on the back side of my book. He stood up and brought that book but found that it was written: “ADRIKOONI WA LAA TUHLIKOONI”. I erased it off and wrote: “ADRIKNI WA LAA TOHLIKNEE.”

میں نے عرض کیا نہیں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا ہے اس کے بعد سارا واقعہ بیان کیا اس نے کہا اس دعا کو آقا محمد بید آبادی نے یاد کرایا ہے کتاب کی پشت پر دعا موجود ہے اٹھا اور کتاب کو لے آیا میں نے دیکھا کہ اس میں لکھا ہوا تھا ادرکونی ولا تھلکونی میں نے اس کو مٹا دیا اور دونوں فعل کو مفرد لکھا۔

Texts that begin the same way

Several supplications open with these words. They are different texts, asking for different things.

Alongside this in Tawassul

DonateSupport the appeal