Namaz · Dead (Mayyit)
Visiting Graveyard
زیارتِ قبور مومنین
- Visiting the grave of a believer…
The trustworthy and sublime Shaykh Ja’far ibn Qawlawayh al-Qummi reports ‘Amr ibn ‘Uthman al-Razi as saying that he heard Imam Musa (a), saying, “Whoever is unable to visit us, may visit the righteous adherents of us. If he does so, he will be endued with the reward of visiting us. Likewise, whoever is unable to connect us, may connect the righteous adherents of us. If he does so, he will also be endued with the reward of connecting us.”
شیخ جلیل و ثقہ جعفر ابن قولویہ قمیؒ نے عمرو ابن عثمان رازی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا :میں نے امام کا ظمؑ سے سنا ہے : جو شخص ہماری زیارت کرنے سے قاصر ہو تو وہ ہمارے شیعوں میں سے صالح مومنوں کی زیارت کرے لہٰذااس کے لئے وہی ثواب ہوگا جو ہماری زیارت کا ثواب ہے جو شخص ہمارے ساتھ خیر و نیکی کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ ہمارے محبوں نیکوکار انسانوں کے ساتھ خیر و نیکی کرے تاکہ اس کو وہی ثواب ملے جو ہمارے ساتھ خیر و نیکی کرنے پر ملتا ہے۔
Through an authentic chain of authority, Muhammad ibn Ahmad ibn Yahya Ash’ari is reported to have said, “I was in Fayd (a station on the way of Makkah) when I accompanied Ali ibn Bilal in visiting the grave of Muhammad ibn Ismail ibn Buzaygh. Ali related to me, saying: The one buried in this grave told me that Imam Reza (a) said, ‘Whoever comes to the graves of his brother-in-faith and puts his hand on the grave and recites Surah Qadr 7 times, will be secured on the Great Horror Day.”
انہوں نے صحیح سند کے ساتھ محمد ابن احمد ابن یحییٰ اشعری سے یہ روایت بھی کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:میں علی ابن بلال کے ہمراہ راہِ مکہ میں واقع مقام ’’فید‘‘ پر گیا اور ہم دونوں محمد ابن اسماعیل ابن بزیع کی قبر پر پہنچے تو علی ابن بلال نے مجھے کہا کہ اس صاحبِ قبر نے مجھ سے امام رضاؑ کا فرمان نقل کیا تھا : جو شخص اپنے مومن بھائی کی قبر پر آئے اور اس کی قبر پر ہاتھ رکھ کر ۷ بار سورۂ قدر پڑھے تو وہ قیامت میں بڑے خوف (فزع اکبر) سے بچا رہے گا۔ ایک اور روایت میں بھی یہی طریقہ نقل ہوا ہے مگر اس میں یہ بات زائد ہے کہ وہ شخص قبر پر ہاتھ رکھ کر قبلہ رخ ہو کر بیٹھے۔
Abdullah ibn Sinan has reported that he asked Imam Sadiq (a) to teach him how to salute the inhabitants in graves. The Imam (a) replied that he might say the following words…
مؤلف کہتے ہیں: فزع اکبر (بڑے خوف)سے محفوظ رہنے کا جو ذکر روایت میں ہے شاید اس میں وہ سورہ کی تلاوت کرنے والا شخص مراد ہے اور روایت کا ظاہر بھی یہی ہے تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے وہ صاحبِ قبر مراد ہو،جیسا کہ وہ حدیث اس کی تائید کرتی ہے جو سید ابن طاؤسؒ نے نقل کی ہے اور وہ آگے ذکر ہوگی۔ کامل الزیارات میں معتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ عبدالرحمان ابن ابی عبداللہ نے امام جعفر صادقؑ سے عرض کی : میں مومنین کی قبروں پر ہاتھ کس طرح رکھوں؟ تو آپ نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے زمین پر رکھا جب کہ آپ قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے تھے۔صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ عبداللہ ابن سنان نے امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں عرض کی: مومنوں کی قبروں پر سلام کس طرح کرنا چاہیے؟ تو حضرتؑ نے فرمایا : یوں کہا کرو۔۔۔
اَلسَّلَامُ عَلٰى اَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ اَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ اِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُوْنَ۔
AS-SALAAMU 'ALAA AHLI AD-DIYAARI MINA AL-MU'MINEENA WAL-MUSLIMEENA ANTUM LANAA FARATUN WANAHNU IN SHAA'A ALLAAHU BIKUM LAAHIQOON.
Peace be upon the inhabitants of these graves, the faithful believers and Muslims. You have preceded us, and we, Allah willing, shall join you.
سلام ہو اہلِ قبرستان میں سے مومنوں اور مسلمانوں پر آپ لوگ ہمارے پیشوا ہیں اورانشاء اللہ ہم بھی آپ سے آ ملیں گے۔
Imam Husain (a), is reported to have said that whoever enters a graveyard and says the following words, Almighty Allah will record for him rewards that are as many as the creatures from the time of (Prophet) Adam up to the coming of the Hour (of Resurrection)…
امام حسینؑ سے روایت ہے : جو شخص قبرستان میں جائے وہ وہاں جا کر یہ کہے۔۔۔
اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الْاَرْوَاحِ الْفَانِيَةِ وَالْاَجْسَادِ الْبَالِيَةِ وَالْعِظَامِ النَّخِرَةِ الَّتِيْ خَرَجَتْ مِنَ الدُّنْيَا وَهِيَ بِكَ مُؤْمِنَةٌ اَدْخِلْ عَلَيْهِمْ رَوْحًا مِنْكَ وَسَلَامًا مِنِّيْ۔
ALLAAHUMMA RABBA HAAZIHI AL-ARWAAHI AL-FAANIYATI WAL-AJSAADI AL-BAALIYATI WAL-'IZAAMI AN-NAKHIRATI ALLATEE KHARAJAT MINA AD-DUNYAA WAHIYA BIKA MU'MINATUN ADKHIL 'ALAYHIM RAWHAN MINKA WASALAAMAN MINNEE.
O Allah, O Lord of these extinct souls, rotten bodies, and crumbled bones that left this worldly life bearing faith in You, (please) insert into them rest from You and salutation from me.
اے معبود! تو ہی پروردگار ہے ان گزری ہوئی روحوں کا ان بوسیدہ جسموں کا اور ان گلی ہوئی ہڈیوں کا جو دنیا سے باہر نکل چکی ہیں لیکن یہ چیزیں تجھ پر ایمان رکھتی ہیں ان کو اپنی طرف سے آسائش دے اور میرا سلام پہنچا۔
Imam Ali (a), is reported to have said that when you visit the grave yard recite the ziyarat of People of the Graves.
امیر المومنینؑ سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص قبر ستان میں جائے توزیارت اہلِ قبور پڑھے۔
According to another tradition, the best thing to be said whenever one passes by a graveyard is the following words, after stopping there…
اب حق تعالیٰ اس شخص کے لئے پچاس سال کی عبادت کا ثواب لکھے گا نیز اس کے اور اس کے ماں باپ کے پچاس سال کے گناہ مٹادے گا(۳)۔ایک اور روایت میں ہے : قبر ستان میں پڑھنے کے لئے بہتر کام یہ ہے کہ جب وہاں سے گزرے تو کہے۔۔۔
اَللّٰهُمَّ وَلِّهِمْ مَا تَوَلَّوْا وَاحْشُرْهُمْ مَعَ مَنْ اَحَبُّوْا۔
ALLAAHUMMA WALLIHIM MAA TAWALLAW WAHSHURHUM MA'A MAN AHABBOO.
O Allah, (please) turn them to that to which they have turned and join them to those whom they have loved.
اے معبود! ان کے دوستوں کو دوست رکھ اور انہیں ان کے ساتھ اٹھا جن سے وہ محبت رکھتے تھے۔
In his book of Misbah al-Za’ir, Sayyid ibn Tawus says: When you intend to visit the graves of the faithful believers, you may choose Thursday; otherwise, you may visit them on any other day. To do so, you may turn your face towards the qibla direction, put your hand on the grave, and say the following supplicatory words…
سید ابن طاؤسؒ نے مصباح الزائر میں فرمایا ہے: جب کوئی شخص قبورِ مومنین کی زیارت کا ارادہ کرے تو بہتر ہے کہ وہ جمعرات کا دن ہو یا کوئی اور دن ہو تو ان کی زیارت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر قبر پر ہاتھ رکھ کر کہے۔۔۔
اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ غُرْبَتَهٗ وَصِلْ وَحْدَتَهٗ وَآنِسْ وَحْشَتَهٗ وَآمِنْ رَوْعَتَهٗ وَاَسْكِنْ اِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِكَ رَحْمَةً يَسْتَغْنِيْ بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ وَاَلْحِقْهٗ بِمَنْ كَانَ يَتَوَلَّاهٗ۔
ALLAAHUMMA IRHAM GHURBATAHOO WASIL WAHDATAHOO WA-AANIS WAHSHATAHOO WA-AAMIN RAW'ATAHOO WA-ASKIN ILAYHI MIN RAHMATIKA RAHMATAN YASTAGHNEE BIHAA 'AN RAHMATI MAN SIWAAKA WAL-HIQHOO BIMAN KAANA YATAWALLAAH.
O Allah, (please) have mercy on his strangeness, connect his loneliness, entertain his isolation, secure his horror, attach Your mercy to him; such mercy by which he can do without the mercy of anyone other than You, and join him to those to whom he has adhered.
اے معبود! اس کی تنہائی پر رحم فرما بے کسی میں اس کے ساتھ رہ، خوف میں اس کا ہم دم بن اسے ڈر سے امان دے اور اپنی رحمت کے سائے میں قرار دے ایسی رحمت جس سے وہ تیرے سوا کسی اور کی رحمت کا محتاج نہ رہے اور اسے ان سے ملا دے جن کا وہ محب تھا۔
You may then recite Surah Qadr 7 times.
اس کے بعد ۷ مرتبہ سورۂ قدر پڑھے۔
As to anyone who recites Surah Qadr at the grave of a faithful believer 7 times, Almighty Allah will send to him an angel who will worship Him (Almighty Allah) next to that grave and the reward of all the devotional acts that are done by that angel will be recorded for the dead person. When Almighty Allah raises him from the grave, He will make easy for him all the horrors by which he will pass until he is allowed to enter Paradise. Along with Surah Qadr, Surah Fateha, Surah Ikhlaas, Surah Falaq, Surah Naas and Aayatul Kursi may be also recited 3 times each.
قبورِ مومنین کی زیارت اور اس کے ثواب میں فضیل سے ایک حدیث مروی ہے : جو شخص کسی مومن کی قبر پر ۷ بار سورۂ قدر پڑھے تو خدائے تعالیٰ اس قبر پر ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس کے قریب عبادت کرتا رہتا ہے۔ پس حق تعالیٰ اس فرشتے کی عبادت کا ثواب اس قبر میں مدفون انسان کے نام سے لکھے گا اور جب وہ قبر سے اٹھے گا تو قیامت کے خوف وخطر میں سے کوئی خوف و خطر اسے لاحق نہ ہو گا یہاں تک کہ خدا اسے اس فرشتے کے عمل کی بدولت داخلِ جنت کر دے گا۔ ۷ مرتبہ سورۂ قدر پڑھنے کے بعد سورۂ فاتحہ، سورۂ فلق، سورۂ ناس، سورۂ اخلاص او ر آیت الکرسی میں سے ہر ایک ۳ مرتبہ پڑھے۔
Another tradition on the same subject reads that Muhammad ibn Muslim asked Imam Sadiq (a), “Should we visit the dead people?” “Yes, you should,” replied the Imam. “Will they know about us when we visit them?” asked Muhammad. “Yes, I swear it by Allah,” said the Imam (a), “they do know about you, feel glad with that, and find entertainment with your visits.” “What should we say when we visit them?” asked Muhammad. The Imam answered, “You may say the following words…
نیز قبورِ مومنین کی زیارت کے بارے میں محمد ابن مسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں گزارش کی کہ آیا ہم مردوں کی زیارت کیا کریں؟ آپ نے فرمایا :ہاں پھر میں نے کہا : کیا ان کو اس کی خبر بھی ہوتی ہے کہ ہم ان کی زیارت کرنے آتے ہیں ؟ حضرتؑ نے فرمایا : بخدا!ا ن کو اس کی خبر ہوتی ہے اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور وہ تم لوگوں کو پہچانتے ہیں، میں نے کہا : ہم ان کی زیارت کرتے وقت کیا پڑھیں؟ آپ نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کرو۔۔۔
اَللّٰهُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جُنُوْبِهِمْ وَصَاعِدْ اِلَيْكَ اَرْوَاحَهُمْ وَلَقِّهِمْ مِنْكَ رِضْوَانًا وَاَسْكِنْ اِلَيْهِمْ مِنْ رَحْمَتِكَ مَا تَصِلُ بِهٖ وَحْدَتَهُمْ وَتُوْنِسُ بِهٖ وَحْشَتَهُمْ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
ALLAAHUMMA JAAFI AL-ARDA 'AN JUNOOBIHIM WASAA'ID ILAYKA ARWAAHAHUM WALAQQIHIM MINKA RIDWAANAN WA-ASKIN ILAYHIM MIN RAHMATIKA MAA TASILU BIHEE WAHDATAHUM WATOONISU BIHEE WAHSHATAHUM INNAKA 'ALAA KULLI SHAY'IN QADEER.
O Allah, (please) prevent the soil from harming their sides, take their souls up to You, increase Your pleasure with them, and make part of Your mercy dwell with them so that You will save them from loneliness and entertain their isolation. Verily, You have power over all things.”
اے معبود! زمین کو ان کے پہلوؤں سے خالی کر دے ان کی روحوں کو اپنی طرف بلند کر ان کو اپنی خوشنودی سے بہرہ مند فرما اور اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے تاکہ تو ان کی تنہائی دور کردے اور ان کے خوف کو دور کر دے بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Printed from https://fzic.org/library/namaz/visiting-graveyard-1869 — the devotional library of the Fatima Zahra Imamia Centre, 80 Downs Street, North Ipswich QLD 4305. Free to read, copy and share.
