Events of Ghadeerغدیر کی مناسبتیں
On the 18th Zilhijjah 10 Hijri after completing the last pilgrimage, the Holy Prophet (pbuh) along with around 100,000 Muslims reached a place called ’Ghadeer-e-Khum’ near Mecca. The following verse was revealed: (Quran 5:67) O Messenger! deliver what Has been revealed to you from your Lord; and if you do it not, then you have not delivered His message, and Allah will protect you from the people; surely Allah will not guide the unbelieving people. On receiving the above verse, the Holy Prophet stopped at that very place & delivered a speech an extract of which is :-[....It seems the time has approached when I shall be called away (by Allah) and I shall answer that call.
یہ عیدِ غدیر کا دن ہے جو خدائے تعالیٰ اور آل محمدؑ کی عظیم ترین عیدوں میں سے ہے ہر پیغمبر نے اس دن عید منائی اور ہر نبی اس دن کی شان و عظمت کا قائل رہا ہے۔آسمان میں اس عید کانام ’’روزِ عہد معہود‘‘ ہے اور زمین میں اس کانام۔’’میثاق ماخوذ ‘‘’’ جمع مشہود‘‘ ہے۔ ایک روایت کے مطابق امام جعفر صادقؑ سے پوچھا گیا: جمعہ،عید الفطر اور عید قربان کے علاوہ بھی مسلمانوں کے لئے کوئی عید ہے؟ حضرتؑ نے فرمایا: ہاں ان کے علاوہ بھی ایک عید ہے اور وہ بڑی عزّت و شرافت کی حامل ہے۔عرض کیا گیا: وہ کون سی عید ہے ؟آپؑ نے فرمایا :وہ دن کہ جس میں حضرت رسول اعظمؐ نے امیرالمؤمنینؑ کا تعارف اپنے خلیفہ کے طور پر کرایا،آپؐ نے فرمایا :جس کا میں مولا ہوں علیؑ اس کے مولا ہیں اور یہ اٹھارہویں ذی الحجہ کا دن اور روزِ عید غدیر ہے، راوی نے عرض کی : اس دن ہم کیا عمل کریں؟ حضرتؑ نے فرمایا : اس دن روزہ رکھو،خدا کی عبادت کرو،محمدؐ و آل محمدؐ کا ذکر کرو اور ان پر صلوات بھیجو۔ حضور ﷺنے امیرالمؤمنینؑ کو اس دن عید منانے کی وصیت فرمائی جیسے ہر پیغمبراپنے اپنے وصی کو اس طرح وصیت کرتا رہا ہے۔
I am leaving for you two precious things and if you adhere to them both, you will never go astray after me. They are the Book of Allah and my Progeny, that is my Ahlul Bayt. The two shall never separate from each other until they come to me by the Pool (of Paradise)." Then the Holy Prophet (pbuh) in an attempt to remind Muslims of his own authority over them said: "Do I not have more right over the believers than what they have over themselves?" Muslims answered unanimously "Yes, O’ Messenger of God". This served as a stepping stone for the announcement of his heir and vicegerent. The Holy Prophet (pbuh) held out the hand of Ali (as) and said:" For whoever I am his Leader (mawla), Ali is his Leader (mawla). "The Holy Prophet then continued to say:" O’ God, love those who love him, and be hostile to those who are hostile to him."
ابن ابی نصر بزنطی نے امام علی رضاؑ سے روایت کی ہے کہ حضرتؑ نے فرمایا : اے ابن ابی نصر!تم جہاں کہیں بھی ہو روزِ غدیر نجف اشرف پہنچو اور حضرت امیرالمؤمنینؑ کی زیارت کرو کہ ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اور ہر مسلم مرد اور ہر مسلمہ عورت کے ساٹھ سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ مزید یہ کہ پورے ماہِ رمضان شب ہائے قدر اور عیدالفطر میں جتنے انسان جہنم کی آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں اس ایک دن میں ان سے دوگنا افراد کو جہنم سے آزادکردیا جاتا ہے۔آج کے دن اپنے حاجت مند مومن بھائی کو ایک درہم بطور صدقہ دینا دوسرے دنوں میں ایک ہزار درھم دینے کے برابر ہے۔ لہٰذا عید غدیر کے دن اپنے برادرمومن کے ساتھ احسان و نیکی کرو،اور اپنے مومن بھائی اور مومنہ بہن کو خوش کرو،خدا کی قسم! اگر لوگوں کو ا س دن کی فضیلت کا علم ہوتا اور وہ اس کا لحاظ رکھتے تو اس روز ملائکہ ان سے دس مرتبہ مصافحہ کیا کرتے،مختصر یہ کہ اس دن کی تعظیم کرنا لازم ہے۔
It is worth mentioning that a great reward has been narrated to be the share of one who, on this day, puts on the best dress, adorns himself, applies perfume, shows delight and happiness, gives pleasure to the adherents of Imam Ali (a), pardons them, settles their needs, visits the relatives, confers upon the family members with gifts and whatever they need, offers food to the believers and the observers of fasting, thanks Almighty Allah for the grand bliss of recognizing the Divinely commissioned leadership of Imam Ali (a), invokes blessings upon the Holy Prophet and his Household, and practices acts of worship and obedience to Almighty Allah.
واضح ہو کہ عید غدیر کے دن اچھا لباس پہنے،خوشبو لگائے۔خوش و خرم ہو مؤمنین کو راضی و خوش کرے،ان کے قصور معاف کرے۔ان کی حاجات پوری کرے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے۔اہل و عیال کے لئے عمدہ کھانے کا انتظام کرے۔ مؤمنین کی ضیافت کرے اور ان کا روزہ افطار کرائے۔مؤمنین سے مصافحہ کرے۔برادرانِ ایمانی سے خوش خوش ملے اور ان کوتحفے تحائف دے آج کی عظیم نعمت یعنی ولایت امیرالمؤمنینؑ پر خدا کا شکر بجا لائے۔کثرت سے صلوات پڑھے اور اس دن خدا کی عبادت کرے کہ ان تمام امور میں سے ہر ایک کی بڑی فضیلت ہے۔
One dirham that is given as alms on this day to a believer is equal to one thousand dirhams that are given on other days. Finally, to offer food to a believer on this day is equal, in reward, to offering food to all the prophets and the veracious people. Addressing a sermon on the Ghadeer Day, Imam Ali (a) said, “The reward of offering food to an observant of fasting on this day is equal to the reward of offering food to one hundred thousand prophets, veracious people, and martyrs multiplied by ten. As for one who provides for a number of believing men and women, I guarantee that Almighty Allah will secure him against atheism, poverty, etc.”
آج کے دن اپنے مومن بھائی کو ایک روپیہ دینا دوسرے دنوں میں ایک ہزار روپیہ دینے کے برابر ثواب رکھتا ہے اور آج کے دن مومن بھائیوں کو دعوتِ طعام دینا گویا تمام پیغمبروں اور صدیقوں کو دعوتِ طعام دینے کے مانند ہے۔ امیرالمؤمنینؑ کے خطبۂ غدیر میں ہے جو شخص آج کے دن کسی روزہ دار کو افطاری دے گویا اس نے دس فئام کو افطاری دی ہے ایک شخص نے اٹھ کر عرض کی: مولا! فئام کیا ہے ؟ فرمایا : فئام سے مراد ایک لاکھ پیغمبر،صدیق اور شہید ہیں۔ ہاں تو کتنی فضیلت ہو گی اس شخص کی جو چند مومنین و مومنات کی کفالت کر رہا ہو ؟پس میں بارگاہِ الہٰی میں اس شخص کا ضامن ہوں کہ وہ کفر اور فقر سے امان میں رہے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ اس عزّت وشرف والے دن کی فضیلت کا بیان ہماری استطاعت سے باہر ہے یہ شیعہ مسلمانوں کے اعمال قبول ہونے اور ان کے غم دور ہونے کا دن ہے۔اسی دن حضرت موسیٰؑ کو جادوگروں پر غلبہ حاصل ہوا اور حضرت ابراہیمؑ کے لئے آگ گلزار بنی۔ اور حضرت موسیٰؑ نے یوشع ابن نونؑ کو وصی بنایا اور حضرت عیسیٰؑ کی طرف(سے) حضرت شمعونؑ کو ولایت و وصایت ملی،حضرت سلیمانؑ نے آصف ابن برخیا کی وزارت و نیابت پر لوگوں کو گواہ بنایا اور اسی دن حضرت رسول ﷺنے اپنے اصحاب میں اخوت وبرادری قائم فرمائی لہٰذا یومِ غدیر مومنین باہم صیغۂ اخوت پڑھیں اور آپس میں بھائی چارہ قائم کریں۔
Share this
